اشعار کی تشریح
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔(1)اُنگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری، جن سے دریائے کرم ہیں جاری
جوش پر آتی ہے جب غم خواری، تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں


الفاظ و معانی: تِشنے:پیاسے۔سیراب:جس کی پیاس بجھ جائے۔
شرح:اللہ کریم نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسی پیاری پیاری اُنگلیاں عطا فرمائی ہیں، جن سے رحمت و کرم کے دریا جاری ہوجاتے ہیں۔جب آپ پانی کی کمی کی وجہ سےصحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کو پریشان پاتے تو غم خواری کا جذبہ جوش پر آتا، مبارک اُنگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوتا اور پیاسے سیراب ہوجاتے۔اس شعر میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدّس اُنگلیوں سے پانی جاری ہونے کے معجزے کی طرف اشارہ ہے جو کئی مرتبہ ظاہر ہوا۔مبارَک اُنگلیوں سے جاری ہونے والے پانی سے کبھی 70 خوش نصیب سیراب ہوئے، کبھی80، کسی موقَع پر 300 اور کبھی 1500۔
(بخاری،ج 2،ص493، حدیث:3572،3574، 3575)
ایک روایت پڑھئے:حضرت سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلحِ حُدَیبیہ کے دن لوگ پیاسے تھے۔رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے موجود پیالے کے علاوہ وُضو کرنے اور پینے کیلئے پانی نہیں تھا۔اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا مبارَک ہاتھ پیالے میں رکھا تو آپ کی اُنگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پانی اُبلنے لگا۔ حضرت سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ارشاد فرمایا:ہم لوگ پندرہ سو(1500) تھے، لیکن اگر ہماری تعداد ایک لاکھ ہوتی تو بھی وہ پانی ہمارے لئے کافی تھا۔
(بخاری،ج2،ص493،حدیث:3576)

کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ
پانچ فوّارے چھلکنے والے


۔(2)آستیں رحمتِ عالَم الٹے،کمرِ پاک پہ دامن باندھے
گِرنے والوں کو چَہِ دوزخ سے، صاف الگ کِھینچ لیا کرتے ہیں


الفاظ و معانی:آستین الٹنا:آستین چڑھانا۔کمر باندھنا:کسی کام کے لئے تیار ہوجانا۔چَہِ دوزخ:دوزخ کا گڑھا۔
شرح:رحمتِ عالَم،نورِ مُجَسّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی اُمّت پر نہایت مہربان اور رحم والےہیں۔گناہ گار اُمّتی گناہ کرکرکے دوزخ میں جانے کے حقدار بنتے ہیں لیکن نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں پکڑ پکڑ کر دوزخ سے کھینچ لیتے ہیں۔
مذکورہ شعر میں اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف اشارہ ہے:میری اور میری اُمّت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو حَشَرات ُالارض(زمینی کیڑے) اور پروانے اس آگ میں گِرنے لگے۔میں تم لوگوں کو کمر سے پکڑ کر روک رہا ہوں اور تم اس آگ میں دھڑا دھڑ گِررہے ہو۔
(مسلم، ص965، حدیث: 5955)
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا اپنی اُمّت کو نرمی گرمی سے سمجھاناگویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے۔یہ روکنا تاقیامت رہے گا۔
(مراٰۃ المناجیح،ج1،ص154)

تمہاری ذات پر کیونکر بھروسا ہو نہ عالَم کو
گنہگاروں کو تم نے نارِ دوزخ سے بچایا ہے


نوٹ:دونوں اشعار امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان حدائقِ بخششسے لئے گئے ہیں۔